اشاعتیں

پی لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

شین آئی پی او: این جی او چیلنج کی وجہ سے برطانیہ کے ریگولیٹر کا فیصلہ سست ہوا۔

تصویر
[ad_1] 12 دسمبر 2024، شام 8:56 بجے 1 منٹ برطانیہ کا مالیاتی ریگولیٹر فاسٹ فیشن خوردہ فروش شین کے آئی پی او کو منظور کرنے میں معمول سے زیادہ وقت لے رہا ہے کیونکہ وہ اس کی سپلائی چین کی نگرانی کی جانچ کر رہا ہے اور چین کی ایغور آبادی کے وکالت کرنے والے گروپ کی فہرست کو چیلنج کرنے کے بعد قانونی خطرات کا اندازہ لگا رہا ہے، دو ذرائع کے مطابق معاملے کے قریب. برطانیہ کے آزاد اینٹی سلیوری کمشنر، جو وزارت داخلہ کی ایک نگرانی کرنے والا ادارہ ہے، نے بھی اپنے سپلائرز پر مزدوری کے طریقوں سے متعلق الزامات کی وجہ سے شین آئی پی او پر حکومت کے اندر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یہ کیوں اہمیت رکھتا ہے۔ امریکہ اور این جی اوز نے طویل عرصے سے چین پر سنکیانگ ایغور خود مختار علاقے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام لگایا ہے، جہاں ان کا کہنا ہے کہ اویغوروں کو کپاس اور دیگر اشیا کی پیداوار میں کام کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ بیجنگ نے کسی قسم کی زیادتی کی تردید کی ہے۔ شین کے لیے، جس کی مالیت گزشتہ سال فنڈ ریزنگ راؤنڈ میں $66 بلین تھی، اس کی IPO کارکردگی جزوی طور پر اس ب...

اے پی ایس حملے کے دس سال، نہ بھولیں گے نہ معاف کریں گے: شہباز شریف

تصویر
[ad_1] پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) میں پیش آئے سانحے کے دس سال مکمل ہونے پر کہا ہے کہ یہ ایک ایسا دل سوز واقعہ تھا جس کی یاد ایک دہائی سے ’ہمارے دلوں کو مضطرب‘ کر رہی ہے۔ پشاور کے آرمی پبلک سکول پر 16 دسمبر 2024 کو حملے کے نتیجے میں بچوں اور اساتذہ سمیت 150 افراد مارے گئے تھے۔ سانحے کے دس سال مکمل ہونے پر پنجاب اور اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے آج یعنی 16 دسمبر کو تعلیمی ادارے بند رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے بھی ایک بیان جاری کیا گیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ ’مجھ سمیت پوری قوم ہمارے بچوں اور اساتذہ کی بہادری کو سلام، خراج عقیدت، ان کے خاندانوں کی قربانیوں اور ہماری سکیورٹی فورسز کی بہادری کو خراج تحسین پیش کرتی ہے۔‘ انہوں نے سانحہ اے پی ایس کے حوالے سے کہا کہ ’ہم کبھی نہیں بھولیں گے۔ ہم کبھی معاف نہیں کریں گے۔‘ اے پی ایس واقعے کے 10 سال: کیا حملے کے بعد پاکستان بدل گیا ہے؟ اے پی ایس پر 16 دسمبر 2014 کو حملے کے بعد دہشت گردی کو ملک سے ختم کرنے کے لیے نیشنل ایکشن پلان نامی منصوبے ک...

افغانستان سے ٹی ٹی پی کے پاکستان پر حملے ہماری ریڈ لائن: شہباز شریف

تصویر
[ad_1] پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے جمعے کو افغان حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی کارروائیاں روکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹی ٹی پی کا ناطقہ مکمل طور پر بند کرنا ہو گا اور انہیں کسی صورت پاکستان کے بے گناہ عوام کو مارنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ ’یہ ہمارے لیے ریڈ لائن ہے۔‘ سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کے مطابق آج وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب میں وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ ’ایک طرف تعلقات بڑھانے کی خواہش کا اظہار جبکہ دوسری طرف ٹی ٹی پی کو کھلی چھٹی اور افغانستان سے پاکستان پر حملے، یہ دوعملی قبول نہیں۔‘ ’ہم پاکستان کی سالمیت کے تقاضوں کا پوری طرح دفاع کریں گے۔ افغانستان ہمارا ہمسایہ اور برادر ملک ہے جس کے ساتھ تعلقات بہتر بنانا، معاشی تعاون، تجارت کا فروغ اور تعاون کو وسعت دینا ہماری خواہش ہے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ یہ بدقسمتی ہے کہ ٹی ٹی پی آج بھی وہاں سے آپریٹ کر رہی ہے اور پاکستان میں ہمارے بے گناہ لوگوں کو مار رہی ہے، یہ پالیسی نہیں چل سکتی۔ ’اگر ٹی ٹی پی بدستور افغان سرزمین سے آ...