انڈیا: روسی تیل کی وافر برآمد سے مشرق وسطیٰ میں متبادل کی تلاش تک
[ad_1]
ایک ماہ پہلے تک انڈیا روس سے وافر مقدار میں تیل خرید کر یورپی یونین ممالک کو بیچ رہا تھا لیکن اب صورت حال بدل چکی ہے۔ روس کی مقامی طلب میں اضافے اور اوپیک معاہدوں سمیت انڈیا کے لیے روسی تیل کی برآمد میں بڑھتی مشکلات کی وجہ سے یہاں کی سرکاری ریفائنریز اب مشرق وسطیٰ کے تیل کی مارکیٹ کا رخ کر رہی ہیں۔ انڈین اخبار ’دا ہندو‘ نے گذشتہ ماہ رپوٹ دی تھی کہ انڈیا نے 2024 کی پہلی تین سہ ماہیوں میں 58 فیصد اضافے کے ساتھ یورپی یونین کو ڈیزل جیسی تیل کی مصنوعات برآمد کیں، جو زیادہ تر رعایتی روسی خام تیل سے ریفائن کی گئی تھیں۔ یورپی یونین نے دسمبر 2022 میں روسی خام تیل پر قیمت کی حد تعین کرتے ہوئے اس پر قدغنیں لگائیں، لیکن ان پابندیوں کا روسی خام تیل پر اثر نہیں پڑا جس کا فائدہ انڈیا جیسے ممالک نے اٹھایا اور روسی تیل خرید کر یورپ کو صاف شدہ تیل کی مصنوعات برآمد کیں۔ اکتوبر 2024 کے آخر تک انڈیا یورپی یونین کو تیل کی مصنوعات کی سب سے زیادہ برآمد کرنے والا ملک بن گیا، جبکہ یوکرین کی جنگ کے بعد روس سے اس کی تیل کی خریداری ایک فیصد سے بڑھ کر 40 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔ اس اضافے کی بنیاد...